12 اپریل 2021 - 16:27
وال اسٹریٹ جرنل: مسٹر بائیڈن! ایران-چین محاذ کے سلسلے میں توہمات سے پرہیز کیجئے

جو لوگ کہتے ہیں کہ ایران-چین تعاون کی دستاویز زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، ان کی بات ناقابل قبول ہے۔ یہ دستاویز بہت بڑا واقعہ ہے، جو ایران اور چین کے تزویراتی اہداف کو آگے بڑھائے گی اور مشرق وسطی کو غیر مستحکم کرے گی، نیز امریکہ کے لئے انتہائی مضر ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے ریپبلکن مدیران نے ایک مشترکہ یادداشت میں امریکی انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے، ایران چین کے جامع تعاون کی دستاویز کے بعد، جو بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ [امریکی] بین الاقوامی نظام کے احیاء کے سلسلے میں توہمات اور خوش فہمیوں سے پرہیز کریں۔ انھوں نے لکھا:

- جو لوگ ٹرمپ کے جانے کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کو واہ واہ کہنے کے منتظر تھے، وہ گذشتہ دو مہینوں میں خواب غفلت سے جاگ اٹھے ہیں۔ جس کی تازہ مثال ایران اور چین کے حالیہ تعاون دستاویز پر دستخطوں کی صورت میں نمایاں ہوئی ہے۔۔۔ فریقین نے اس دستاویز کو 25 سالہ تزویراتی شراکت داری کا نام دیا ہے اور اس کا مطلب دو ملکوں کے مابین رشتوں کی مضبوطی ہے۔ چین ایران کے مختلف شعبوں میں کھربوں ڈالر سرمایہ کاری کرے گا اور ایران سے تیل کی درآمد کے تسلسل کو یقینی بنائے گا؛ فریقین فوجی شعبوں میں تعاون میں اضافہ کریں گے اور چین اپنی فوجی ٹیکنالوجی کا کافی بڑا حصہ ایران منتقل کرے گا۔

- جو لوگ کہتے ہیں کہ ایران-چین تعاون کی دستاویز زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، ان کی بات ناقابل قبول ہے۔ یہ دستاویز بہت بڑا واقعہ ہے، جو ایران اور چین کے تزویراتی اہداف کو آگے بڑھائے گی اور مشرق وسطی کو غیر مستحکم کرے گی، نیز امریکہ کے لئے انتہائی مضر ہے۔

- یہ دستاویز ایران پر لگی پابندیوں کو بےاثر کرے گی، ایران کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، ایران پر امریکی دباؤ کمزور پڑ جائے گا، ایرانی افواج کی طاقت میں اضافہ ہوگا اور مشرق وسطی میں ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا۔ عراق، یمن اور شام میں امریکی اور سعودی اہداف کو نقصان پہنچے۔

- ایران اور چین مشترکہ بینک کی بنیاد رکھیں گے جو عالمی معیشت میں امریکی ڈالر کو بائي پاس کرے گا اور یوں مختلف ممالک پر امریکی پابندیوں کے اثرات کم ہونگے اور ڈالر کو عالمی معیشت سے نکال باہر کرنا ایران، چین اور روس کے اہم اہداف میں سے ایک ہے۔ ان کے خیال میں ڈالر بذات خود عالمی استحکام کے لئے خطرہ بنا ہؤا ہے چنانچہ وہ یوآن کو ڈالر کے متبادل کے طور پر عالمی زرمبادلہ کی حیثیت دینا چاہتے ہیں۔

- ایران-چین اسٹراٹیجک تعاون کی وجہ سے مشرق وسطی میں چین کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا؛ توانائی کے وسائل تک چین کی رسائی میں اضافہ ہوگا۔ شیل کمپنی کے انقلاب کے بعد، امریکہ مزید مشرق وسطی کے تیل سے وابستہ نہیں ہے، چنانچہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو چین کی منڈی تک رسائی کی ضرورت ہے چنانچہ ممکن ہے کہ یہ ممالک چین پر سرمایہ کاری کریں کیونکہ خلیج فارس میں اثر و رسوخ امریکہ کا فطری اور ذاتی حق نہیں ہے۔

- امریکہ کے اسٹراٹیجک مفادات پیچیدگیوں سے دوچار ہونگے۔ جوبائیڈن ایران سے کہہ رہے ہیں کہ جوہری معاہدے میں پلٹ آئے لیکن 2021ء کا ایران 2015ء سے کافی مختلف ہے اور چین کی ہمہ جہت حمایت سے بہرہ ور ایران کو پہلے جیسے دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔ چین اور روس، اقوام متحدہ کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانے کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے۔

- پڑوسی علاقوں میں ایران کا حلقۂ اثر وسیع تر ہوگا، اور ثابت ہوجائے گا کہ امریکیوں کا یہ تصور کہ ایران، چین اور روس کو اپنے پڑوس میں حلقۂ اثر بڑھانے کی اجازت ملنا چاہئے، کس قدر حماقت آمیز ہے، کیونکہ یہ ممالک اپنے حلقۂ اثر میں جتنے طاقتور ہونگے، اس امکان میں اضافہ ہوگا کہ تینوں مل کر دنیا میں امریکہ کے معیشت اور سلامتی کے سلسلے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے متحد ہوجائیں۔

- ایران اور روس شام میں اور چین اور روس شمالی کوریا پر لگی پابندیوں کو بائی پاس کرنے کے سلسلے میں تعاون کو بڑھائیں گے اور کیوبا اور ونزوئلا کی حکومتوں کو تقویت پہنچائیں گے۔

- جو بائیڈن اور اس کے مداخلت پسند لبرل حامی کہتے ہیں کہ وہ قوانین کے دائرے میں [امریکی] بین الاقوامی نظام کے احیاء کے خواہاں ہیں، وہی نظام جسے، ان کے خیال میں، مسٹر ٹرمپ نے نابود کردیا ہے۔ حالانکہ یہ ایک عمدہ داستان گوئی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ امریکہ کے ان ہی دشمنوں نے علاقائی اثر و رسوخ بڑھا کر اس نظام کو اوباما کے دور میں ہی تباہ کردیا تھا۔ اب وہ اقوام متحدہ کے ذریعے - جو ان ہی دشمنوں پر مشتمل ہے - اپنے مفادات کے پیش نظر عالمی قواعد کو پامال کرتے رہیں گے۔

- مسٹر بائیڈن کی امیدیں ناقابل توجہ ہیں؛ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہورہی ہے۔ شمالی کوریا ایک بار پھر میزائل تجربے کررہا ہے، چین پہلے سے زیادہ جارحانہ انداز سے تائیوان کو دھمکیاں دے رہا ہے، ایران جوہری معاہدے کی پابندیوں کو کم کررہا ہے اور روس امریکی اہداف و مفادات کو کمزور کررہا ہے۔ جبکہ مسٹر بائیڈن امریکی معیشت کے ارتقاء میں مصروف ہیں۔ دنیا ارتقائی مراحل سے گذر رہی ہے لیکن مناسب راستے [یعنی امریکی مرضی] کے مطابق نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تالیف: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲